Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot
*کَشـــــــکَوُلِ_گـــــــدائِـــــــی!*
کچھ لوگ اس کو فقط ایک قصہ کہانی سمجھتے ہیں حالانکہ مولانا روم نے بھی اس نقطے پر سیر حاصل گفتگو کی ھے
لیلہ نے اپنا لنگر کھول رکھا تھا،
منگتے قطار در قطار آرہے تھے ، سوالی اپنی جھولی پھیلاتے لیلہ نوازتی جاتی ، عطا کرتی جاتی ،دیتی جاتی ،
اور رخصت کرتی جاتی،
اک قطار میں مجنوں بھی اپنا پیالہ لیے کسی سوالی کے پیچھے چھپ کے کھڑا ہوگیا، جب اس کی باری آئی ، لیلہ نے پہچان لیا،
اور ہاتھ سے پیالہ جھٹک کر دیوار پہ دے مارا،سرخرو گدا اور منگتے لیلہ کا مجنوں سے یہ رویہ دیکھ کر تلملا اٹھے ، مجنوں پہ جملے کسنے لگے ،
تیری محبوبہ نے تجھے آج سرِ عام رسوا کردیا۔
مجنوں نے ذرا سب کو قریب کر کے پوچھا ذرا اپنا کشکول دِکھاؤ؟ سب اپنا اپنا بادہء گدائی میرے سامنے کرو، بتاؤ کس کس کا پیالہ خالی ہے ؟ سب نےاپنا اپنا کاسہ سامنے رکھا،بولے ہمارے تو بھرے ہوئے ہیں ،
مجنوں نے فوراًً کہا۔
ارے عقل کے اندھو!
اگر میرا بھی بھرا ہوتا ، تو بتاؤ تم میں اور مجھ میں فرق کیا رہ جاتا؟یہ بھی ادائے محبوب ہے ، کہ اس نے فرق روا رکھنے کے لئے تمہیں عطا کیا اور مجھے بھگا دیا، وہ مجھے بغیر پیالے کے دیکھنا چاہتی ہے
اہلِ محبت کو مجنوں ایک راز بتا گیا جبکہ اکثر اہلِ بصیرت و محبت کا ذوق اس انتہاء کا ہوتا ہے کہ انہیں تلاش کرنے کی حاجت ہی نہیں پڑتی بلکہ عقل و فہم کے سامنے اشارے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ہمیں قبول کریں۔
میری زندگی میں کئی مرتبہ ایسا وقت آیا کہ میری امیدوں کا پیالہ ٹوٹ گیا،
میری حسرتوں کو پکڑ کر سرِ بازار نیلام کردیا گیا،
میری خواہشات کو دیوار پہ دے مارا گیا، کئی مرتبہ میری حسرتوں کا گلا گھونٹ دیاگیا
لیکن مجنوں نے مجھے سمجھایا کہ
اے نادان!
اگر حالتِ عشق میں ہے تو پھر تجھے معلوم ہوگا کہ محبوب کی عطا کہاں ہے اور سزا کہاں ہے ،
نوازش کہاں ہے اور سرزنش کہاں ہے ؟
ورنہ جہاں جہاں تیری امیدوں کو ٹھوکر لگے گی، جس جس مقام پہ تیری حسرتوں کا جنازہ نکلے گا،جس جس جگہ پہ سوالی کشکول ٹوٹے گا تَو تُو تڑپے گا کم اور چیخ و پکار زیادہ کرے گا۔
پھر بھی اگر سمجھ نہیں آرہی کہ تیری زندگی کا کونسا سٹیج ہے ، تجھے معلوم نہیں رہا کہ میرے
ساتھ ہوکیا رہا ہے؟
تو اے خواہشات میں جکڑے انسان !
یاد رکھ
کبھی قدرت تیرے ہاتھ میں کاسہء گدائی دیکھنا نہیں چاہتی ، تجھے "سوالی کٹورے" کےسِوا دیکھنا چاہتی ھے
لہذا جب کبھی دیکھ مجھے ٹھکرایا جارہا ہے مجھے بھگایا جارہا ہے، میرا"کٹورا" توڑا جارہا ہے
تو فوراً سمجھ جاکہ قدرت تجھے بازارِ کائنات میں لوگوں کا سوالی نہیں بلکہ اپناولی بنانا چاہتی ہے ۔
بہرحال محبوب تھوڑا سا دےتو بہت لگے تو یہ ابتداھے محبت کی
پھر جب محبت جوان ہو جائے تو محبوب کچھ بھی نہ دے تو لگے کہ گویا اس نے سب کچھ ہی مجھ پہ وار دیا ہے یہ جوانی ہے محبت کی
اصل محبت تو اسکے بعد شروع ہ وتی ہے جب محبوب دکھ دے تو عاشق کو سکھ لگے یہ محبت کی انتہا ہے۔
Comments
Post a Comment