ہر تنہائی سکون نہیں ہوتی
کچھ دن انسان کے اندر ایسے اتر جاتے ہیں کہ وہ دن
نہیں، ایک بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔ نہ دل کسی کام میں لگتا ہے، نہ کسی آواز سے سکون ملتا ہے۔ ہم خود کو مصروف رکھنے کے لیے ہزار راستے آزماتے ہیں؛ موبائل کی اسکرین بدلتے ہیں، ایک ایپ سے دوسری ایپ تک جاتے ہیں، لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو کھو دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر دل کی خالی جگہ ویسی کی ویسی رہتی ہے۔
سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ ان لمحوں میں ہمیں کسی کی موجودگی چاہیے ہوتی ہے، کسی ایسے شخص کی جو صرف اتنا پوچھ لے "آپ ٹھیک ہو؟" مگر ہم اپنی ضرورت، اپنی کمزوری اور اپنی اداسی کو لفظوں میں نہیں ڈھال پاتے۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے بھی نہیں کہہ پاتے کہ "آج کچھ دیر میرے ساتھ بیٹھ جاؤ، مجھے تمہاری کی ضرورت ہے۔"
لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں سے دور رہنا سکون دیتا ہے، لیکن شاید سکون دوری میں نہیں، صحیح ساتھ میں چھپا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انسان کو پوری دنیا نہیں چاہیے ہوتی، بس ایک ایسا دل چاہیے ہوتا ہے جو اس کی خاموشی سن سکے، اس کی آنکھوں میں چھپی تھکن پڑھ سکے اور بغیر کسی سوال کے اس کے ساتھ چند لمحے گزار سکے۔
اور شاید زندگی کے سب سے مشکل دن وہی ہوتے ہیں جن میں انسان روتا بھی نہیں، کسی سے شکایت بھی نہیں کرتا، بس خاموشی سے اپنے اندر ٹوٹتا رہتا ہے اور دل میں یہی خواہش رکھتا ہے کہ کاش کوئی پوچھ لے… "آپ سچ میں ٹھیک تو ہو نا ؟"
از قلم تکویر فاطمہ

Comments
Post a Comment