Posts

Showing posts from November, 2020

رب کی عطا کردہ عورت کی فطری خوبیاں||takveeer2917blogspot

Image
مرد کو سمجھنے کی جتنی صلاحیت پاک نے عورت کو بخشی ھے مرد کو اس کی ھوا بھی نہیں لگی  مرد کے معاملے میں اللہ پاک نے عورت میں وہ Sensor لگایا جو دھواں سونگھ کر آگ کی خبر دیتا ھے    "MBA شوھر دوست کو گھر لاتا ھے  اور مڈل پاس بیوی اس کو دس منٹ میں بتا دیتی ھے کہ       اس کی نظر ٹھیک نہیں " عورت میں مرد کے بارے میں اتنی Applications رکھی گئی ;ھیں کہ -وہ مرد کی نظر پڑھ سکتی ھے ،  -اس کی چال پڑھ سکتی ھے ، -اس کے الفاظ پڑھ سکتی ھے ، یہاں تک کہ وہ مرد کی مصنوعی اور حقیقی مسکراھٹ کے -فرق ک دن اور رات کی طرح جانتی ھے -جھوٹ پکڑنے والی مشین کو دھوکا دیا جا سکتا ھے ، -عورت کو دھوکا دینا ناممکن ھے ، -وہ مروت سے چپ کر جائے تو اس کی مہربانی ھے ، -جھگڑا دفتر میں ھوتا ھے -اور اس کی خبر وہ آپ کا مُکھڑا دیکھ کر دے دیتی ھے  -آپ ٹریفک وارڈن سے لڑ کر مسکراتے ھوئے گھر میں داخل ھو -مگر وہ اچانک پیچھے سے آ کر کہتی ھے " کس سے لڑ کر آئے ھیں ؟ "  -جس رب نے عورت کو جسمانی طور پہ نازک بنایا ھے -اس رب نے نفسیاتی طور پر عورت کو بڑا قوی بنایا ھے  -پیغمبروں کی حفاظت عورت کو سونپی گئی ھے  کتنے بڑے امتحان...

Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot

*کَشـــــــکَوُلِ_گـــــــدائِـــــــی!* کچھ لوگ اس کو فقط ایک قصہ کہانی سمجھتے ہیں حالانکہ مولانا روم نے بھی اس نقطے پر سیر حاصل گفتگو کی ھے لیلہ نے اپنا لنگر کھول رکھا تھا، منگتے قطار در قطار آرہے تھے ، سوالی اپنی جھولی پھیلاتے لیلہ نوازتی جاتی ، عطا کرتی جاتی ،دیتی جاتی ، اور رخصت کرتی جاتی، اک قطار میں مجنوں بھی اپنا پیالہ لیے کسی سوالی کے پیچھے چھپ کے کھڑا ہوگیا، جب اس کی باری آئی ، لیلہ نے پہچان لیا، اور ہاتھ سے پیالہ جھٹک کر دیوار پہ دے مارا،سرخرو گدا اور منگتے لیلہ کا مجنوں سے یہ رویہ دیکھ کر تلملا اٹھے ، مجنوں پہ جملے کسنے لگے ، تیری محبوبہ نے تجھے آج سرِ عام رسوا کردیا۔ مجنوں نے ذرا سب کو قریب کر کے پوچھا ذرا اپنا کشکول دِکھاؤ؟ سب اپنا اپنا بادہء گدائی میرے سامنے کرو، بتاؤ کس کس کا پیالہ خالی ہے ؟ سب نےاپنا اپنا کاسہ سامنے رکھا،بولے ہمارے تو بھرے ہوئے ہیں ، مجنوں نے فوراًً کہا۔ ارے عقل کے اندھو! اگر میرا بھی بھرا ہوتا ، تو بتاؤ تم میں اور مجھ میں فرق کیا رہ جاتا؟یہ بھی ادائے محبوب ہے ، کہ اس نے فرق روا رکھنے کے لئے تمہیں عطا کیا اور مجھے بھگا دیا، وہ مجھے بغیر پ...

Sad poetry ||sad lines||sad words||takveerasmatblogspot

💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞 💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞 💞کِسے عِشق تھا تیری ذات سے💞 💞کِسے پیار تھا تیرے نام سے💞 💞ذرا یاد کر کہ وہ کون تھا 💞 💞جو کبھی تجھے بھی عزیز تھا 💞 💞وہ جو جی اُٹھا تیرے نام سے💞 💞وہ جو مر مٹا تیرے نام پے💞 💞ہمیں بے رُخی کا نہیں گلہ💞 💞کہ یہی وفاؤں کا ہے صلہ💞 💞مگر ایسا جرم تھا کونسا ؟💞 💞گئے ہم دعا ؤ سلام سے💞 💞کبھی یاد آؤں تو پوچھنا💞 💞ذرا اپنی فرصتِ شام سے💞 #T.F

Afsana ||maan ki mohabat||takveerasmatblogspot

     MAAN KI MOHABT اماں کہتیں،''پنکھا چلا کر نہ سویا کر، موسم  بدل رہا ہے، بیمار پڑ جائے گی''، اور میں لحاف کے اندر منہ کیے جواب دیتی،'' اماں مجھے گرمی لگتی ہے، پنکھا چلائے بغیر میں نہ سو سکوں میں تو اور کچھ نہ کہتی، تیرے بھلے کیلیے کہا کہ رات کو سردی لگ گئ تو بیمار ہوجائے گی۔ یہ کہتے ہوئے اماں چل دیتیں۔ میں اٹھتی، پنکھے کی رفتار ذرا اور بڑھا دیتی، زرد بلب کا بٹن ٹک سے بند کرتی اور دوبارہ بستر پر لیٹ کر لحاف کھینچ لیتی۔ رفتار بڑھنے کے ساتھ پنکھے کی آواز بھی بدل جاتی اور گھڑ گھڑ کی آواز کمرے میں پھیل جاتی۔ مجھے یہ آواز پسند تھی،ردھم میں چلتی پنکھے کی گھڑ گھڑ کو سنتے جلد ہی نیند آجاتی تھی۔ مجھےبدلتے موسم بھی پسند تھے، بدلتے رنگ بھی، پر ہاں، بدلتے لوگوں سے میری ایک نہ بنتی۔۔۔ MAN KI MOHABT یوں تو بدلتے موسم میں پنکھے کی ضرورت نہ تھی پر کہتی، '' اماں، گرمیوں میں تو ہمیشہ اس ظالم پنکھے کی گرم ہوا ہی نصیب ہوتی ہے، اب تو ٹھنڈک محسوس کرلوں''۔ رات نجانے کس پہر آنکھ کھلتی تو محسوس ہوتا پنکھے کی رفتار قدرے آہستہ ہوچکی ہے اور میرے جسم پر لحاف کی جگہ ایک ...

Khadim Husain Rizvi||Allama Khadim Hussain Rizvi||takveerasmatblogspot

Image
انا للہ و انا الیہ راجعون اب رہیں چین سے بے درد زمانے والے سوگئےخواب سےلوگوں کوجگانےوالے دیکھنےکو تو ہزاروں ہیں‘مگرکتنے ہیں ظلم کے آگے کبھی سر نہ جھکانے والے😭😭😥😥 KAHDIM HUSSAIN RIZVI