افسانہ حصہ اول "عنصرِ گمشدہ" ازقلم تکویر فاطمہ اس کائنات کی وسیع تجربہ گاہ میں ہر انسان ایک عنصر ہے۔کوئی مکمل دکھائی دیتا ہے، کوئی بکھرا ہوا، کوئی بے رنگ اور کوئی ایسا کہ جس کی ایٹمی ساخت میں کہیں ایک الیکٹران ہمیشہ کم رہ جاتا ہے۔سائنس اسے Missing Electron کہتی ہے۔ مگر محبت، محبت اسے عنصرِ گمشدہ کہتی ہے۔ اشمل ایمان بھی انہی عناصر میں سے ایک تھی۔وہ زندگی کو سمجھنے والی اور زندہ دل لڑکی تھی جو لوگ اسے جانتے تھے ان کی نظر میں وہ لا ابالی سی تھی جس کو اکثر اسکی ماں بے وقوفوں کی سردار کہا کرتی تھی ۔ مگر کوئی تھا جو جانتا تھا وہ بے وقوف نہیں ۔وہ زندگی کی کھوج میں رہتی تھی کوئی خوشی کوئی ایسی بات کوئی ایسا کام جو اسےاور اس سے جڑے رشتوں کو خوش کردے ۔ مگر وہ اکثر ہار جایا کرتی تھی ۔۔ اس کی روح کے کسی مدار میں ایک خلا برسوں سے گردش کر رہاتھا ۔وہ خلا کسی خواہش کا نہیں تھا، کسی دولت کا نہیں، وہ صرف ایک احساس کا تھا اور اس احساس کا نام تھا۔" قلب بلال “ وہ شخص جس سے بات کرکے ایک احساس اسکے اندر جاگا کہ اسکی روح کے مدار کا خلا بھر ے جارہا ہے مگر وہ کہتے ہیں نہ کہ بھوکے کو جتنا کھلا دو اسکا پیٹ بھر جاےگا آنکھیں نہیں بھریں گی اسی طرح وہ اپنی محبت کو جتنا زیادہ دیکھتی وہ خود کو ویسے ہی بھوکا محسوس کرتی ۔ان کی محبت کسی فلمی منظر سے شروع نہیں ہوئی تھی۔نہ کسی بارش والے دن،نہ کسی یونیورسٹی کے کوریڈور میں،نہ کسی کتاب کے صفحے سےبلکہ ان کی محبت ایک موبائل کی چھوٹی سی اسکرین سے شروع ہوئی تھی۔دو اجنبی آوازیں،دو مختلف زندگیاں، آہستہ آہستہ دو روحیں ایک دوسرےسے کئی میل دور ہوکے بھی اس چھوٹی سی دنیا میں ایک دوسرے سے ملتی گئیں پھر دن مہینوں میں بدلے،مہینے برسوں میں ۔ اور سات سال یوں گزر گئے جیسے وقت نے خود ان دونوں کی گفتگو سننے کے لیے رفتار دھیمی کر دی ہو۔ وہ روز بات کرتے،ہنستے ،روتے،خاموش رہتے،دعائیں دیتے دنیا جہان کی باتیں کرتے جس میں کچھ سبق ہوتے اور کچھ ایک دوسرے کو کی جانے والی نصیحتیں۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ ان سات برسوں میں کبھی کسی نے ملاقات پر اصرار نہیں کیا۔ شاید محبت کو یقین تھا کہ روحیں فاصلے سے بھی زندہ رہ سکتی ہیں۔ یا شاید دونوں اس حقیقت سے ڈرتے تھے کہ کہیں حقیقت، تصور سے کم خوبصورت نہ نکلے۔ اشمل نے کبھی ضد نہیں کی۔اس نے صرف دعائیں کیں اور دعائیں بھی ایسی جو کسی سے چھینی ہوئی خوشی نہیں مانگتیں۔ وہ اپنی ڈائری کے ہر صفحے پر قلب بلال کے لیے لفظ چھوڑتی جاتی۔ ایک دن اس نے لکھا: میں اپنی زیست کے تمام پنّوں کو اس سب سے معتبر جانتی ہوں، جب میں اپنے کانوں میں آپ کی آواز اور اپنی آنکھوں سے آپ کا چہرہ تکتی ہوں۔ آپ میرے رب کی طرف سے ملا وہ انعام ہیں جسے میں دنیا و آخرت میں چاہوں گی۔ اے میری زندگی کے لاحاصل شخص آپ کو میری عمر لگ جائے۔ میری صرف ایک دعا ہے ایک بار سہی، میں آپ سے ملوں۔ آپ کے ساتھ دو قدم چل سکوں۔ ایک لمحہ سہی، آپ کے ساتھ ہونے کو محسوس کر سکوں۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ دعائیں کبھی رد نہیں ہوتیں ،وہ صرف اپنے وقت کا انتظار کرتی ہیں۔ پھر ایک دن قلب بلال نے خاموش آواز میں کہا، گھر والے میری شادی کر رہے ہیں۔ جب اشمل نے یہ جملہ سنا تو وہ ایک آواز نہیں بلکہ دل پہ بہت بڑا پتھر گرا ہو ۔ جیسے کسی سالمے کا آخری بانڈ بھی ٹوٹ گیا ہو۔ جیسے اس کے دل کو کسی پتھر سے کچل دیا گیا ہو ۔ پہلی با ر اس نے دل سے ایک خواہش مانگی۔اگر زندگی مجھے کچھ نہیں دے سکتی تو صرف ایک ملاقات دے دے۔صرف ایک بار۔ تاکہ برسوں سے جس شخص کو صرف اسکرین کے اُس پار دیکھا ہے جو مجھ سے کئی میلوں دور ہےاسے حقیقت کی روشنی میں صرف ایک بار دیکھ سکوں۔ اور پھر کائنات نے شاید اس دعا پر "قبول" لکھ کر اسکی دعا کو اپنے عناصر میں شامل کر لیا تھا۔
حصہ دوم کیمیائی تعامل اس نے سن رکھا تھا کہ کچھ ملاقاتیں تعارف نہیں مانگتی،پوری زندگی کا ساتھ نہیں مانگتی وہ صرف ایک نظر مانگتی ہیں، اور پھر پوری زندگی بدل جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک ملاقات چاہیے تھی اس نے اپنے رب سے جس میں صرف وہ ایک نظر جس سے وہ اسے صرف ایک بار دیکھ سکے ۔ سات برس کسی کیلنڈر پر یہ صرف اعداد تھے۔مگر اشمل ایمان کے لیے یہ سات برس ایک مسلسل کیمیائی عمل تھے، جہاں ہر دن امید کا ایک نیا سالمہ بنتا اور ہر رات خاموشی اسے پھر تحلیل کر دیتی۔پھر ایک دن وقت نے اپنی رفتار بدل دی۔ وہ دن آ ہی گیا جس کے لیے اشمل نے برسوں اپنے ہاتھوں کو رب کے آگے پھیلا پھیلا کےدعائیں مانگی تھیں لکھی تھیں۔ ہاتھ کانپ رہے تھے۔دل کی دھڑکنیں کسی غیر مستحکم عنصر کی طرح بے قابو تھیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے وجود کے تمام الیکٹران ایک ہی مدار میں جمع ہو گئے ہوں۔ وہ اپنے ملاقات کے مقام پر اس کے آنے سے پہلے موجود تھی اس عمارت کے دو دروازے تھے اور ان دروازوں کو ملانے کے لیے ایک راہداری تھی اور وہ اس راہداری کے ایک کونے پر تھی دوسرے کونے پر وہ کھڑا تھا۔ہاتھ ہلایا اس نے اپنی موجودگی کا بتایا پھر وہ سامنے آگیا تو یوں لگا جیسے دل دھڑکنا بھول جائے گا۔کیونکہ خوشی اتنی تھی پھر وہ اس عمارت کی راہداری سے نکل کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ہلکی ہلکی گھاس تھی ،ہوا آہستہ آہستہ پتوں سے کھیل رہی تھی۔ درخت کے پتے جھوم رہے تھے جیسے وہ بھی ان کی ملاقات پہ خوش ہو رہے ہوں ۔سورج کی روشنی شاخوں کے درمیان سے چھن کر زمین پر ایسے بکھر رہی تھی جیسے کائنات اس لمحے کو اپنے ہاتھوں سے سجا رہی ہو۔ پھر... اس نے نظریں اٹھائیں ابھی تک بے یقین تھی کہ واقعی وہ آج کے بلال سے مل رہی ہے ۔ بے یقینی کا یہ عالم تھا ، وہی آواز وہی چہرہ جسے سات برس تک صرف ایک چھوٹی سی اسکرین میں دیکھا تھا۔ مگر حقیقت۔۔ اشمل آج اعتراف کررہی تھی کچھ حقیقتیں تصور سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں ۔ قلب بھی بے یقینی کے عالم میں تھا شاید اسے بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ جس شخص سے وہ سات برس بات کرتا رہا، وہ آج اس کے سامنے سانس لے رہا ہے۔ دونوں کے درمیان صرف چند قدموں کا فاصلہ تھا۔ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے نظر اٹھانے کی ہمت کسی ایک میں نہیں تھی کیونکہ ان چند قدموں میں سات برس کی تمام خاموشیاں کھڑی تھیں۔ اشمل نے نظریں اٹھانے کی کوشش کی۔ مگر حیا نے پلکوں کو تھام لیا۔ وہ مسکرائی، مگر نظریں جھکا لیں۔ قلب نے بھی شاید پہلی بار محسوس کیا کہ بعض چہروں کو دیکھنے کے لیے آنکھوں سے زیادہ دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ لمحے یوں ہی گزر گئے ۔ دونوں ہی خاموش تھے اور وہ خاموشی اتنی پُرمعنی تھی کہ اگر اسے لفظ مل جاتے تو شاید پوری ایک کتاب بن جاتی۔ پھر قلب نے دھیرے سے کہا آخرکار! ملاقات ہو ہی گئی۔۔ اشمل نے سر ہلایا۔ آواز شاید اب بھی دل کی دھڑکنوں میں کہیں گم تھی۔ وہ یونہی اگلے کئی لمحوں تک وہیں درخت کے سائے میں بیٹھے رہے ہوا اب بھی ویسی ہی تھی۔ مگر اشمل کو لگ رہا تھا کہ آج فضا میں آکسیجن نہیں۔ یادوں کی خوشبو گھلی ہوئی ہے، کبھی وہ ایک دوسرے کو دیکھتے پھر فوراً نظریں چرا لیتے۔جیسے دو عناصر پہلی بار ایک دوسرے کے قریب آ کر اپنی توانائی کو سنبھالنا سیکھ رہے ہوں۔ یہ کسی عام ملاقات کا لمحہ نہیں تھا۔ یہ دو روحوں کے درمیان برسوں سے قائم ایک غیر مرئی Covalent Bond کا پہلی بار حقیقت میں ظاہر ہونا تھا۔ وقت خاموشی سے گزرتا رہا،کسی کو جلدی نہیں تھی،کسی کو منزل نہیں چاہیے تھی۔ کیونکہ اس لمحے میں بیٹھ کر ہی دونوں کو محسوس ہو رہا تھا کہ شاید زندگی نے آج پہلی بار انہیں مکمل سانس لینا سکھایا ہے۔پھر وہ قریب کے ایک چھوٹے سے کیفے میں گئےکیونکہ اشمل جانتی تھی وہ اتنے میل سفر کرکے آیا ہے اور وقت بھی صبح آٹھ کا تو ناشتہ کرنا چاہیے ۔ ویٹر نے ایک میز پہ گرما گرم بھاپ اڑاتی دو کپ چاے اور قیمہ بھرے گرما گرم پراٹھے رکھ دئیے ۔ بلال نے اسے کھانے کو اشارہ کیا تواس نے ایک پراٹھا اٹھا کر اسے چار ٹکڑوں میں بانٹ کر ایک ٹکڑا اس نے بلال کے ہاتھ پہ رکھا ۔شرارتا بلال نے کہا ا اب دیکھا بھی نہیں جارہا اور ہاتھ کانپ رہے کیا میں یہ ہاتھ تھام لوں؟اور اشمل نظریں جھکا گئی جو کہ اسکے سوال کے جواب میں قبولیت کا اشارہ تھا .اسے آج ہر لقمہ کسی بچے کی خوشی کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔خاموشی سے ناشتہ کیا اور اسی خاموشی میں بے شمار ادھوری باتیں رہ گئیں اشمل نے چائے کا پہلا گھونٹ لیا تو بے اختیار مسکرا دی۔ قلب نے پوچھا۔ چائے اچھی ہے؟ وہ آہستہ سے بولی، "شاید ایسی چاے میں دوبارہ کبھی نہ ہی پی سکوں۔ قلب نے جملہ اچک لیا اور یوں کہو نہ کہ چاے اچھی نہیں آج ساتھ اچھا ہے۔ قلب بھی مسکرا دیا۔ اور اس مسکراہٹ میں برسوں کی ساری تھکن جیسے گھل گئی۔ وہ موسم کی بھی بات کرتے تو لگتا جیسے زندگی کی بات ہو رہی ہے۔ وہ چائے کی تعریف کرتے تو لگتا جیسے قسمت کا شکر ادا کر رہے ہوں۔ اور یوں قلب کی واپسی کا وقت ہو چکا تھا اور وہ خدا حافظ کہ کر چلا گیا اور وہ اسے جاتا دیکھتی رہی۔ اشمل نے دل ہی دل میں سوچا... "اے اللہ... اگر زندگی میں ان لمحوں کے بعد کچھ بھی نہ ملے تو بھی میں ناشکری نہیں کروں گی۔کیونکہ آج میری روح کو اس کا گمشدہ عنصر مل گیا ہے۔ اور شاید... میں جان چکی ہوں کہ عنصرِ گمشدہ کوئی انسان نہیں تھا۔وہ ایک احساس تھا۔ جو صرف قلب بلال کی روبرو موجودگی میں مکمل ہوا ہے ۔
حصہ سوم (آخری) بقایا توانائی (Residual Energy) بعض کیمیائی تعامل ختم نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی حرارت چھوڑ جاتے ہیں، اور وہ حرارت پوری زندگی انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔ ملاقات کے چند ہی مہینوں بعد ایک شام قلب بلال نے نہایت خاموش لہجے میں اشمل سے کہا، "میری شادی طے ہو گئی ہے۔" چند لمحوں کے لیے اشمل کو یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اپنی سانس روک لی ہو۔ دل کے اندر کچھ ٹوٹا ضرور تھا، مگر اس نے اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر صرف اتنا کہا، "اللہ تمہیں دنیا کی ہر خوشی عطا کرے۔" قلب خاموش رہا۔ شاید وہ جانتا تھا کہ بعض دعائیں ہونٹوں سے نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے دل سے نکلا کرتی ہیں۔ پھر شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ عجیب اتفاق تھا کہ جس لباس کا خواب کبھی اشمل نے اپنے لیے دیکھا تھا، آج وہی دلہن کا جوڑا وہ خود فون پر بیٹھ کر کسی اور کے لیے منتخب کر رہی تھی۔ ہر رنگ کو غور سے دیکھتی، ہر ڈیزائن پر رائے دیتی اور آخر میں مسکرا کر کہتی، "یہ والا زیادہ خوبصورت ہے، اس میں وہ بہت خوش لگے گی۔ صرف یہی نہیں، اس نے کمرے کی سجاوٹ میں بھی اپنی رائے دی، پھولوں کی ترتیب بتائی، روشنیوں کا انتخاب کیا ۔ پھر مہندی کی رات آ گئی۔ پورا گھر روشنیوں میں نہایا ہوا تھا۔ دیواروں پر جگمگاتی لائٹیں تھیں، ہر طرف قہقہے، دعائیں اور خوشیوں کی آوازیں بکھری ہوئی تھیں۔ انہی روشنیوں کے درمیان قلب بلال بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔ مگر ایک شہر کے ایک گھر کے خاموش کمرے میں اشمل تنہا بیٹھی تھی۔ کمرے کی بتیاں بند تھیں اور کھڑکی سے آتی ہلکی سی روشنی اس کے چہرے پر ٹھہر گئی تھی۔ اسی لمحے فون بجا۔ اسکرین پر صرف ایک نام روشن تھا... قلب بلال۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال اٹھائی۔ "السلام علیکم! اتنا کہتے ہی برسوں سے روکے ہوئے آنسو بے اختیار بہنے لگے۔ وہ کچھ بول نہ سکی۔ دوسری طرف بھی چند لمحوں کی خاموشی رہی، پھر قلب نے آہستہ سے کہا، "رو مت، اشمل، ابھی میں کسی کے نام نہیں ہوا... ابھی اس ایک لمحے تک میں تمہارا ہوں۔" یہ جملہ سنتے ہی اشمل کا ضبط ٹوٹ گیا۔ وہ بچوں کی طرح رونے لگی۔ کچھ دیر بعد اسے محسوس ہوا کہ دوسری طرف کی آواز بھی بھرّا گئی ہے۔ قلب بھی رو رہا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس نے کسی مرد کو یوں خاموشی سے روتے ہوئے محسوس کیا تھا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس لمحے وہ اپنی تکلیف بھول گئی۔ اسے صرف اس شخص کے آنسو تکلیف دے رہے تھے، جس کی خوشی کے لیے وہ برسوں سے دعائیں کرتی آئی تھی۔ کافی دیر بعد اشمل نے خود کو سنبھالا، اپنے آنسو پونچھے اور نہایت دھیمے لہجے میں کہا، "سنو قلب... آج کے بعد تم جس کے ہو جاؤ گے، پھر ہمیشہ اسی کے رہنا۔ اس کی محبت میں کبھی کمی مت آنے دینا، اس کے اعتماد کو کبھی ٹوٹنے مت دینا۔ وہ جب تمہارا نام لے تو اسے ہمیشہ یہ یقین رہے کہ اس کا شوہر صرف اسی کا ہے۔ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت کسی کو حاصل کرنا نہیں، بلکہ اسے اس کے حصے کی وفا کے ساتھ رخصت کرنا ہے۔" چند لمحے خاموش رہنے کے بعد وہ پھر بولی، "اور اگر کبھی کسی بارش کی رات، کسی خاموش شام یا زندگی کے کسی ایسے موڑ پر جہاں یادیں بے اختیار لوٹ آیا کرتی ہیں، تمہارے دل میں یہ خیال آئے کہ کوئی اشمل بھی تھی... تو بس ایک بار مسکرا دینا۔ کیونکہ تمہاری وہ ایک مسکراہٹ میری پوری محبت کا حاصل ہوگی۔" خدا حافظ کہنے سے پہلے قلب نےاسے صرف اتنا کہا کہ مسافر ہیں ہم بھی مسافر ہو تم بھی کسی موڑ پر پھر ملاقات ہوگی کال ختم ہو گئی، مگر اس رات کچھ ختم نہیں ہوا۔ صرف ایک محبت اپنی شکل بدل کر دعا بن گئی۔ اشمل نے آنکھیں بند کیں اور دل ہی دل میں کہا، "میں نے تمہیں پانے کی دعا نہیں کی تھی، میں نے صرف ایک بار تمہیں محسوس کرنے کی دعا کی تھی۔ اللہ نے میری وہ دعا قبول کر لی، اس لیے اب میرے دل میں کوئی شکوہ نہیں، کوئی گلہ نہیں، کوئی ادھوراپن نہیں۔" اسی رات اس نے اپنی ڈائری کا آخری صفحہ کھولا۔ قلم ہاتھ میں لیا اور لکھا: "خدا تمہیں دنیا کی تمام خوشیوں سے نوازے، تمہاری زندگی میں اتنی محبت بھر دے کہ تمہیں کبھی کسی کمی کا احساس نہ ہو، تمہارا ہر آنے والا دن سکون سے روشن ہو۔ اگر میری محبت میں کوئی سچائی تھی تو اس کا اجر مجھے نہیں، تمہیں سکون کی صورت ملے۔ میں نے تمہیں پانے سے زیادہ ہمیشہ تمہیں خوش دیکھنے کی دعا کی ہے، اور آج... میں تمہیں اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔" پھر اس نے قلم بند کیا، ڈائری کا آخری صفحہ آہستہ سے موڑا، چند لمحے اپنی ہتھیلی اس پر رکھی اور اسے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس نے ڈائری بند نہیں کی تھی، اس نے اپنی محبت کو لفظوں سے نکال کر دعاؤں کے حوالے کر دیا تھا۔ کیونکہ کچھ کہانیاں آخری صفحے پر ختم نہیں ہوتیں، وہ سجدے کی پہلی دعا سے شروع ہوتی ہیں۔ اس دن کے بعد اشمل نے کبھی ڈائری نہیں لکھی، کیونکہ اب ہر لفظ، ہر آنسو اور ہر احساس صرف اللہ تک پہنچنا چاہتا تھا۔ شاید ہر محبت کا مقدر وصال نہیں ہوتا۔ کچھ محبتیں انسان کو صرف اتنا سکھانے آتی ہیں کہ دعا، محبت کی سب سے بلند صورت ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں بھی کوئی لاحاصل شخص ہے تو اسے بددعا نہیں، دعا دیجیے، کیونکہ جو محبت دعا بن جائے، وہ کبھی ختم نہیں ہوتی۔ بعض عناصر پوری زندگی ایک دوسرے کے نہیں ہوتے، مگر ایک مختصر کیمیائی تعامل کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کی ساخت بدل جاتے ہیں۔ شاید... اسی کا نام محبت ہے۔ — اختتام — 🖤

Comments

Popular posts from this blog

Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot