بہادر آفیسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل سے میڈیااس خاتون کو ہیرو کے طور پہ پیش کررہاہے۔حقیقت کیاہے۔
ان سے ملیے یہ ہیں ہماری بہادر آفیسر شرافت خان۔انہوں نے کل ایک بہت بڑا کارنامہ سرانجام دیاہے۔یقین مانیے دل باغ باغ ہوگیاہے۔
کل ان کو خبر ملی کہ جامع مسجد حقانی سیوڑھی بابا اورنگی ساٹٹ ٹاون میں جمعہ کی نماز آدإ ہورہی ہے۔جیسے ہی اطلاع ملی ہماری فرض شناس پولیس آفیسر نے جان کی پرواہ کیے بنا دو پولیس مباٸل کے ساتھ موقع پہ پہنچی.
پہنچتے ہی مسجد کے دروازے پہ چیخنا شروع کردیا۔چونکہ خود سوات سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے پشتو میں مسجد کے دروازے پہ کھڑے ہوکے پہلے پہل خوب گالیاں دے کے مسجد کے تقدس کا حق آدا کیا۔
لیکن چونکہ ان بابرکت گالیوں سے مجمعے کو اشتعال دلانے میں ناکام رہیں توانہوں نے ایک قدم آگے بڑھ کے وہاں کی پشتوں برادری کو وہ سب گالیاں دیں جومحترمہ کو یاد تھیں۔
معاملہ یہاں ٹھنڈارہا۔محترمہ یہاں بھی ناکام رہیں۔کسی کو اشتعال دلاکے اپنے آپکو بہادر پولیس آفیسر کیش نہ کرو سکی۔چونکہ جمعے کا خطبہ شروع تھا۔اور ہرچھوٹے بڑے مسلمان کوپتہ ہے کہ خطبہ جمعہ کے بیچ بولنا گناہ ہے۔لھذا امام صاحب نےخطبہ پہ اور مقتدیوں نے سماعت پہ توجہ دی۔البتہ مسجد آنے والے نمازی سیڑھیوں پہ محترمہ کا گالیوں والا خطبہ سنتے رہے۔یاد رہے اس مسجد کے ٹوٹلی نمازی پختون ہیں۔
ہماری بہادر آفیسرکی جب اس پہ دال نہ گلی تو پولیس کے ہمراہ بوٹو سمیت مسجد کے اندر صفوں کو چیرتی ہوی امام کی طرف جانے لگی۔صحن سے مسجد کے برآمدے تک پہنچ گٸ۔پھر مسجد کے اندر تیسری صف تک پہنچی تھی کہ ایک نواجوان نمازی آفیسرکی فرض شناسی کے سامنےکھڑا ہوگیا۔اسے جوتے اتارنے اور گالیوں سے منع کیاہے۔اس دوران محترمہ نے اپنے ہاتھ موجودڈنڈے کااستعمال شروع کردیا۔اس دوران دوسرے لوگ مسجد سے باہر نکالنے کے لیے دھکے دینے لگے جس کی وجہ سے محترمہ کا تھوڑا میکپ اور ناک پہ خراش آگی اور یوں محترمہ آگ بگولا ہوگی۔اور پھر کیاخطبہ۔کیامسجد۔کیانمازی۔کیا بزرگ۔سب کو دھمکیاں دینے لگے۔برحال نمازیوں نے غلطی یہ کی کہ اس کو مسجد خداکا گھرہے ۔جوتے سمیت آپ نہیں آسکتی کہ کے روکا۔اور نکالا۔جس پہ محترمہ کے چند جملے ملاحظہ فرماٸیے۔
تا سو ٹول پختانہ بیغیرتا۔
اور دلا گان۔
مجھے چونکہ پشتو نہیں آتی ۔اس لیے ترجمہ کررہاہو۔
تم تمام پختون بیغرت ہو۔دلے ہو۔بے شرم ہو۔
اب فیصلہ آپ پہ چھوڑ رہاہوں۔
کیاکوی گناہ گار مسلمان اپنی عبادات گاہ کی بے حرمتی قبول کرسکتاہے۔
کیاکوی آفیسر ہزاروں کی تعداد میں موجودایک برادی کو گالیاں دے سکتاہے۔
کیا نمازیوں کو مسجد سے روکنا امام کا کام ہے۔
کیا اس ساری سیچوٸیشن میں اگر آپ ہوتے تو آپ کیاکرتے۔پھولوں کے ہارپہناتے یادو لافے
کیا ایک آفیسر کو ایساکرنےکا حق حاصل ہے۔
ظلم تویہ کہ امام مسجد اور انتظامیہ پہ آٹھ مختلف قسم کے دفعات لگا کے ایف آٸ آر درج کردی گی۔
اور مسجد کو سیل کرنے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔
فیصلہ آپ پہ چھوڑتے ہیں۔
میڈیا کل سے اس گھٹیا۔قسم کی آفیسرکوہیروکو طور پہ پیش کررہاہے۔اہل محلہ کا جینا دو بھر کیاہوا ہے۔لوگوں کو اس کی اصلیت بتاٸیے۔اور اسکے خلاف آواز اٹھاٸیے۔

Comments
Post a Comment