داستانِ آوارہ سبین فاطمہ کی ماں بہت کم بولتی تھی مگر جب بولتی تھی تو ایسی بات کہتی جو سالوں تک ذہن کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی۔ چھوٹی سبین جب کبھی صحن میں کھیل کھیل کر تھک جاتی اور اسکی ساری سہیلیاں چلی جاتی تو وہ ماں کی گود میں سر رکھ لیتی، اور منہ بسور کے کہتی امی ساری چلی گئی ہیں تو ماں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی: ''بیٹا، انسان صرف لوگوں سے نہیں بچھڑتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی اندر آباد کسی شہر سے بھی ہجرت کر جاتا ہے۔'' سبین اُس وقت آٹھ نو سال کی تھی۔ وہ ایسے بڑے بڑے جملوں کا مطلب نہیں سمجھتی تھی لیکن پھر بھی ان الفاظ کو اپنے سینے میں اٹھائے رکھتی تھی جیسے کوئی بچہ ایک خوبصورت پتھر اٹھا لے اور سوچے کہ بڑا ہوکر سمجھوں گا یہ کیا چیز ہے۔ ایسے ہی وقت گزرا اور وہ سوچتی رہی اپنے اندر کے شہر سے کوئی کیوں ہجرت کرتا ہوگا؟ کیا وہ شہر بھی کسی لڑائی کے بعد ویران ہو جاتا ہے؟ کیا وہاں بھی بم گرتے ہیں؟ کیا وہاں کی گلیوں میں بھی سناٹا بسیرا کرلیتا ہے ؟ مگر یہ سوال وہ کبھی ماں سے کر نہ پائی۔ شاید اس لیے کہ ماں کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ خود اس درد کو جانتی ہوں ، اور کسی دکھ...
Popular posts from this blog
Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot
*کَشـــــــکَوُلِ_گـــــــدائِـــــــی!* کچھ لوگ اس کو فقط ایک قصہ کہانی سمجھتے ہیں حالانکہ مولانا روم نے بھی اس نقطے پر سیر حاصل گفتگو کی ھے لیلہ نے اپنا لنگر کھول رکھا تھا، منگتے قطار در قطار آرہے تھے ، سوالی اپنی جھولی پھیلاتے لیلہ نوازتی جاتی ، عطا کرتی جاتی ،دیتی جاتی ، اور رخصت کرتی جاتی، اک قطار میں مجنوں بھی اپنا پیالہ لیے کسی سوالی کے پیچھے چھپ کے کھڑا ہوگیا، جب اس کی باری آئی ، لیلہ نے پہچان لیا، اور ہاتھ سے پیالہ جھٹک کر دیوار پہ دے مارا،سرخرو گدا اور منگتے لیلہ کا مجنوں سے یہ رویہ دیکھ کر تلملا اٹھے ، مجنوں پہ جملے کسنے لگے ، تیری محبوبہ نے تجھے آج سرِ عام رسوا کردیا۔ مجنوں نے ذرا سب کو قریب کر کے پوچھا ذرا اپنا کشکول دِکھاؤ؟ سب اپنا اپنا بادہء گدائی میرے سامنے کرو، بتاؤ کس کس کا پیالہ خالی ہے ؟ سب نےاپنا اپنا کاسہ سامنے رکھا،بولے ہمارے تو بھرے ہوئے ہیں ، مجنوں نے فوراًً کہا۔ ارے عقل کے اندھو! اگر میرا بھی بھرا ہوتا ، تو بتاؤ تم میں اور مجھ میں فرق کیا رہ جاتا؟یہ بھی ادائے محبوب ہے ، کہ اس نے فرق روا رکھنے کے لئے تمہیں عطا کیا اور مجھے بھگا دیا، وہ مجھے بغیر پ...
ہر تنہائی سکون نہیں ہوتی
کچھ دن انسان کے اندر ایسے اتر جاتے ہیں کہ وہ دن نہیں، ایک بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔ نہ دل کسی کام میں لگتا ہے، نہ کسی آواز سے سکون ملتا ہے۔ ہم خود کو مصروف رکھنے کے لیے ہزار راستے آزماتے ہیں؛ موبائل کی اسکرین بدلتے ہیں، ایک ایپ سے دوسری ایپ تک جاتے ہیں، لوگوں کے ہجوم میں بھی خود کو کھو دینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر دل کی خالی جگہ ویسی کی ویسی رہتی ہے۔ سب سے عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ ان لمحوں میں ہمیں کسی کی موجودگی چاہیے ہوتی ہے، کسی ایسے شخص کی جو صرف اتنا پوچھ لے "آپ ٹھیک ہو؟" مگر ہم اپنی ضرورت، اپنی کمزوری اور اپنی اداسی کو لفظوں میں نہیں ڈھال پاتے۔ ہم اپنے قریبی لوگوں سے بھی نہیں کہہ پاتے کہ "آج کچھ دیر میرے ساتھ بیٹھ جاؤ، مجھے تمہاری کی ضرورت ہے۔" لوگ کہتے ہیں کہ لوگوں سے دور رہنا سکون دیتا ہے، لیکن شاید سکون دوری میں نہیں، صحیح ساتھ میں چھپا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انسان کو پوری دنیا نہیں چاہیے ہوتی، بس ایک ایسا دل چاہیے ہوتا ہے جو اس کی خاموشی سن سکے، اس کی آنکھوں میں چھپی تھکن پڑھ سکے اور بغیر کسی سوال کے اس کے ساتھ چند لمحے گزار سکے۔ اور شاید زندگی کے سب سے مشکل دن وہی ہو...

Nice
ReplyDelete