پیرس سے بہاولپور

اسے میرے ساتھ دو سال ھونے کو تھے۔۔۔۔ھماری
دوستی فیس بک پہ ھوئی تھی۔۔۔کہنے کو فیس بک ایک ٹائم پاس کا ذریعہ ھے لیکن نبھانے والے یہاں بھی نبھا لیتے۔۔۔دوستے کب کیسے محبت میں بدل گئی کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔۔۔برحال بات یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ ایک دوسرے بنا رہا نہیں جاتا تھا. . وقت کی اڑان کا پتا نہیں چلتا۔۔۔۔میری پیرس سے دبئی کیلئے فلائٹ تھی اور پھر دوبئی ڈیڑھ گھنے رکنے کے بعد مجھے اسلامآباد کیلئے نکلنا تھا۔۔۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار مجھ سے صبر نہیں ھو رہا تھا۔۔۔۔جذبات کنٹرول نہیں ھو رہے تھے اور دل کی ڈھرکنیں تین سو ساٹھ کی سپیڈ سے ڈور رہی تھیں۔۔۔۔کیونکہ میں دو سال بعد اسے زندگی میں پہلی بار ملنے والا تھا اور اسے بھے میرا بہت ہی بے صبری سے انتظار تھا اور ھو بھی کیوں نا۔۔۔آخر اتنی محبت جو تھی ایک دوارے سے۔۔۔۔خیر ڈیرھ گھنٹا میں نے دوبئی ائیرپورٹ پر گھوم پھر کر گزارا اور میں ایک بار پھر پرواز کیلئے پلین میں بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔رن وے پہ دوڑتے پلین کی بڑھتی سپیڈ کے ساتھ ساتھ میرے اندر کی خوشی آہستہ آہستہ عیاں ھونے لگی تھی۔۔۔۔۔راستے میں کہیں آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا۔۔۔۔اور پھر ائیر ھوسٹس کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی جو یہ کہہ رہی تھی کہ کچھ ہی منٹوں بعد ھم اسلام آباد ائیرپورٹ پہ لینڈ کرنے والے ہیں۔۔۔براہ کرم اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے۔۔۔۔اسلام آباد کا نام سن کر یوں محسوس ھوا جیسے کسی جنت میں پہنچے ولا ھوں۔۔۔۔۔اپنا وطن اپنا ہی ھوتا۔۔۔۔اور سب سے مزے کی بات کہ یہ میرا سرپرائز ٹور تھا کیونکہ میں نے اپنے ایک دوست کے علاوہ جو مجھے ائیرپورٹ رسیوو کرنے آیا تھا کہ علاوہ کسی کو اپنے آنے کی خبر نہیں دی تھی اور خاص کر میں اس منچلی کے ریایکشن دیکھنا چاہتا تھا جس کیلئے میں سپیشلی آیا تھا۔۔۔محبت انسان کو کہیں بھی کھینچ کر لے جاتی ھے۔۔۔۔میں نے پاسپورٹ پہ اگزٹ سٹمپ لگوایا اور باہر نکل آیا جہاں میرا دوست اپنی بی ایم ڈبلیو کے ساتھ میرے سواگت کیلئے کھڑا تھا۔۔۔۔۔دور سے آتے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔۔۔میرے جسم میں جیسے طاقت قوت آ رہی تھی۔۔۔۔۔باہر ملک میں آپ جتنے پیسے بھی کماو آپ دل اور ذہن کا سکون کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔چونکہ تھکاوٹ بہت ذیادہ ھو چکی تھی اسلئے میں نے تین سے چار گھنٹے آرام کرنے کا سوچا اور پھر ھم روم میں پہنچ گے جہاں ھمیں رکنا تھا۔۔۔۔۔


اس دن میں معمول سے ذیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا۔۔۔۔وائٹ کارٹن شرٹ کیساتھ بلیک جینز اور وائٹ جوگر۔۔۔۔کلائی میں رولکس کی واچ اور روجا کا پرفیوم لگائے میں بالکل تیار کھڑا تھا۔۔۔بس انتظار تھا تو اپنے دوست کا جو واش روم میں گھس گیا تھا۔۔۔۔۔میں نے گھر (کشمیر) جانے کے بجائے پہلے اپنی ھونے والی شریک حیات کیطرف جانے کا سوچا۔۔۔۔۔مجھے بس اس کے شہر کا نام پتا تھا۔۔۔محبت میں انسان اندھا ھو جاتا ھے۔۔۔۔زندگی میں پہلی بار میں بہاولپور کیطرف نکل پڑا تھا۔۔۔۔ایک انجان شہر اور انجان لوگوں میں میرے دل کی ڈھرکن رہتی تھی جسے ابھی تک پتا نہیں تھا کہ میں اسے سرپرائز دینے والا ھوں۔۔۔۔ایک سو ساٹھ کی سپیڈ سے دوڑتی گاڑی میری اندر ہی اندر ایک خوشی دے رہی تھی ۔۔۔آنے والا ہر منٹ ہر لمحہ مجھے اس کے قریب سے قریب تر کر رہا تھا۔۔۔۔اسلامآباد سے تقریبا چھ سو ساٹھ کلو میٹر کا فاصلہ ھم نے آٹھ گھنٹوں میں پورا کرنا تھا لیکن فل دماغ چاہ رہے تھے کہ کسی عقاب کیطرح اڑ کر محبوب کے شہر پہنچ جاوں۔۔۔۔مجھے کس بات کی اتنی خوشی تھی یہ میں خود بھی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔میرا دوست جو میرے ساتھ جا رہا تھا اس کے دل میں ڈر تھا خوف تھا۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ کہیں کوئی ھمیں ٹپکا ہی نہ دے لیکن میں اسے بار بار تسلیاں دے رہا تھا کہ تمہاری بھابھی بہت اچھی ہیں۔۔۔تم بھی ملو گے تو فین ھو جاو گے۔۔۔ھم فیصلآباد پہنچنے والے تھے۔۔۔۔راستے میں ایک ڈھابے پر رک کر چائے پی۔۔اس چائے کے پہلے سپ نے مجھے پیرس کی کیپوچینو بھلا دی جو اکثر میں شام کے وقت ایفل ٹاور کے نیچے بیٹھ کر پیتا تھا۔۔۔۔۔دل جب آوٹ آف کنٹرول ھوا تو میں نے دوست سے ہاٹ سپاٹ شئر کر کے اسے میسج کر دیا کدھر ھو۔۔۔کیونکہ میں نے ابھی تک اپنا نمبر آن نہیں کیا تھا۔۔۔ھمیشہ کیطرح ہی تقریبا آدھے گھنٹے بعد رپلائے آیا۔۔۔۔یونی سے ابھی گھر پہنچی ھوں کیوں خیر تو ھے۔۔۔۔۔میں اسکا جواب پڑھ کر آف ھو گیا۔۔۔۔۔چونکہ شام تک ھمیں کسی بھی طرح بہاولپور پہنچنا تھا اسلئے راستے میں کہیں بھی ذیادہ نہیں رکے۔۔۔۔بھاگم بھاگ میں ھم نے پیر محل بھی کراس کر لیا اور اب ھم بہاولپور کی سڑک پہ جا رہے تھے۔۔۔۔۔محبوب کے شہر کی ھواوں سے بھی خوشبو آتی ھے۔۔۔۔میں نے شیشہ نیچے کیا اور ھوا میں سے اس خوشبو کو محسوس کرنے لگا جو میرے یار کے شہر سے آ رہی تھی۔۔۔۔میرا دوست یہ سب پاگل پن دیکھ کر بے حد قہقے لگا رہا تھا۔
تیسرا پارٹ:

ابھی تک میں نے ھونے والی مسسزز کو یہ نہیں بتایا تھا کہ میں اس کے اپنے شہر بہاولپور پہنچ چکا ھوں۔۔۔مجھے بس اسکی یونی کا نام پتا تھا اور میں اسے گیٹ پہ سرپرائز دینا چاہتا تھا۔۔چونکہ بہاولپور پہنچتے شام ھو گئی تھی اسلئے ھم نے رات ایک ھوٹل میں گزارنے کا فیصلہ کا۔۔۔میرے لئیے صبر کی وہ گھڑی کسی قیامت سے کم نہ تھی۔۔۔۔دل میں بے چینی آنکھوں میں انتظار اور دماغ میں اس کی تصویر۔۔۔۔میرے صبر کا پیمانہ لبریز ھو رہا تھا۔۔۔۔میں نے دوست کو کہا کہ میں اسے کال کر کے سب بتانے والا ھوں تو اس نے ایسا کرنے سے منع کر دیا کیونکہ اب کچھ گھنٹوں کی بات تھی ۔۔۔۔ڈنر کے بعد میں نے اسے کال کی اور یہ سونگ پلے کر دیا۔۔۔۔ھم تیرے شہر میں آئے ہیں مسافر کیطرح ۔۔۔صرف اک بار ملاقات کا موقع دے دو۔۔۔۔۔وہ ہنسنے لگی۔۔۔۔خیر تو ھے آج یہ سونگ کیسے یاد آ گیا۔۔۔بس میں چاہ کر بھی بتا نہیں سکتا تھا۔۔۔۔دل کر رہا تھا کسی عقاب کیطرح اڑ کر کیسے بھی اس کے پاس پہنچ جاوں۔۔۔۔سات سو اکتالیس دن بعد زندگی میں پہلی مرتبہ اس کا اور میرا سامنا ھونے والا تھا۔۔۔۔میں بہت اکسائٹڈ تھا۔۔۔میرے لئے محبوب کا شہر دیکھنا بھی کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔رات ڈنر کرنے کے بعد ھم نے پورا بہاولپور شہر گھوم لیا اور یقین کیجئے پیرس سے لیکر بہاولپور تک کے اس لمبے سفر میں ایک بھی سیلفی نہیں لی تھی۔۔۔۔۔۔
نیند کیسے اور کیوں کر آئے۔۔۔آنکھیں بند کروں تو وہی چہرہ بار بار سامنے آ رہا تھا۔۔۔۔یہ سب فیلنگز وہی سمجھ سکتا ھے جو پہلی بار لمبے عرصے کیبعد اپنے محبوب سے ملا ھو۔۔۔۔خیر کیسے بھی کر کے وہ رات گزار دی اور وہ سورج نکل آیا جو میری زندگی کو رنگین بنانے والا تھا۔۔۔
اس روز میں نے تیار ھونے میں لڑکیوں سے ذیادہ ٹائم لیا۔۔۔وائٹ ٹی شڑٹ بلیک جینز گول گوگلز رولکس کی بلیک کلر کی واچ وائٹ جوگر اور سب سے بڑھ کر روجا کا پرفیوم جس کی خوشبو سے پورا ھوٹل مہک رہا تھا۔۔۔۔میں نے اپنا سپورٹس بیگ کندھے پہ لٹکایا اور باہر نکل آیا۔۔۔۔۔۔یونی کیطرف بڑھتے ھوئے میرے دل کی دھڑکنیں کسی ایف سولہ کیطرح تیز ھو رہی تھی۔۔۔۔۔اسکا یونی ٹائم دس بجے کا تھا اور اس سے پہلے ہی گیٹ کے پاس پہنچے چکے تھے۔۔۔۔بڑی مشکل سے منت سماجت کر کے اور وجہ لوئی اور بتا کر ھم نے اندر جانے کی پرمیشن لی۔۔۔۔ ھم نے کار ایک سائیڈ پہ کھڑی کی اور میں باہر نکل آیا۔۔۔۔۔میں کسی فیلی ایکٹر سے کم نہیں لگ رہا تھا یہی وجہ تھی کہ آنے والی ہر لڑکی میری طرف بڑی حیرانگی سے دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔دس بجنے ہی والے تھے۔۔۔۔میں نے بیگ سے ڈائمنڈ رنگ نکالی جو دبئی ائرپورٹ سے اس کیلئے لی تھی۔۔۔۔پہلی ملاقات تھی۔۔۔۔کچھ دینا تو بنتا تھا۔۔۔۔۔دوست کی بی ایم ڈبلیو کے ساتھ ٹیک لگائے میں اسی کی سوچوں گم تھا کہ اچانک یونی ورسٹی مہکنے لگی۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے بے موسم پھول کھل رہے ھوں۔۔۔۔میں نے گیٹ کیطرف نگاہ ڈورائی۔۔۔۔کالے سوٹ میں ملبوس وہ حسینہ یقینا اس روز کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔کندھے پہ پرس لٹکایا ھوا اور ہاتھوں میں بکس تھامی ھوئی۔۔۔میں گوگلز اتار کر اس کیطرف بڑھنے لگا ابھی تک اس نے مجھے نہیں دیکھا تھا۔۔۔اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اسے اس کی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز ملنے والا ھے۔۔۔۔۔اور پھر اچانک میں اس کے سامنے اور وہ میرے۔۔۔۔وقت رک گیا سانسیں تھم گئیں ۔۔۔کتابیں گر گئیں اور دونوں ہاتھ منہ پہ رلھ لئیے۔۔۔آنکھوں سے آنسو جاری ھو گے۔۔۔۔کپکپی صاف دکھائی دینے لگی۔۔۔۔۔ھونٹ ہلنے لگے لیکن ککچھ کہہ نہ سکے۔۔۔۔شاید آواز بند ھو گئی تھی اور میں بس پاگلوں کیطرح اسے کھڑا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔پوری یونی کے سٹوڈنٹس ھمیں دیکھ رہے تھا۔۔۔۔۔اور پھر اچانک کچھ ایسا ھوا کہ۔۔۔


وہ خود کو روک نہیں پائی اور میرے ساتھ لپٹ گئی۔۔میں کسی سٹیچو کی مانند بس اسے گھورتا رہ گیا۔۔۔۔یقینا آپ سب کو کوئی فلمی سٹوری لگ رہی ھو گی لیکن یہ ایک حقیقت ھے میری زندگی کی سب سے خوبصورت حقیقت جسے میں آج یاد کرتا ھو توں آنسو چھلک پڑتے ہیں۔۔۔۔۔تقریبا پانچ منٹ کے دورانیے تک وہ مجھ سے لپٹی رہی ابھی تک اس کے ہونٹوں سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا تھا اس کے دل کی ڈھرکنیں موٹروے پہ دوڑتی کسی سپورٹس سے تیز چل رہیں تھیں جنہیں میں با آسانی سن سکتا تھا۔۔۔۔سٹوڈنٹس ایسے دیکھ رہے تھے جیسے ایفل ٹاور کے نیچے کسی ہالی وڈ فلم کی شٹونگ چل رہی ھو۔۔۔۔میں نے اسے خود دور کیا تو محسوس ھوا میری شڑٹ اس کے آنسووں سے گیلی ھو چکی تھی۔۔۔۔وہ وقت میرے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔میں نے جیب سے ڈائمنڈ رنگ نکالی اور اس بایئں ہاتھ کی انگی پہ پہنا دی۔۔۔۔سب سمجھ چکے تھے۔۔۔۔۔کلیپنگ ھوئی۔۔۔۔میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور بی ایم ڈبلیو میں بٹھا کر یونی سے نکل آئے۔۔۔۔

ارمان آپ یہاں ایسے اچانک کیوں۔۔۔۔اگر میری سانس رک جاتی تو۔۔۔۔یہ دیکھیں میرا ہاتھ ابھی بھی کپکپی ھو رہی ھے۔۔میں نے اسے اپنے ساتھ بٹھایا تھا دوست پچھلی سیٹ پہ ایسے سویا تھا جیسے صدیوں سے بندے کی آنکھ نہ لگی ھو۔۔۔۔میں گاڑی چلاتے وقت بس اسی کو دیکھ رہا تھا اسے یقین نہیں ھو رہا تھا کہ اس کا ارمان اس کے سامنے ھے اور میں یہ دیکھ کر خوشی محسوس کر رہا تھا کہ اس نے آج میرے پسند کا کلر پہنا ھوا۔۔۔۔آپکو کم از کم بتانا تو چاہیے تھا کہ آپ آ رہے کم از کم آج تو میں تیار ھو کہ آتی لیکن وہ پگلی یہ نہیں جانتی تھی کہ آج مجھے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت پری لگ رہی تھی۔۔۔۔میں گاڑی بہت سلو سپیڈ سے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔۔کاش وقت تھم جاتا۔۔۔۔۔گاڑیاں رک جاتیں اور میں کسی سڑک کے سنٹر میں گاڑی روک کر اسے پرپوز کرتا۔۔۔۔لیکن میری سوچ خیال بس سوچنے کی حد تک محدود تھے۔۔۔۔مجھے بہت بھوک لگ رہی تھی میں نے گاڑی ایک ھوٹل کی پارکنگ میں لے لی اور ھم ھوٹل میں جانے لگے۔۔۔

میں نے زنگر کے ساتھ کولڈ ڈرنکس منگوائی۔۔۔۔اس نے اپنے لئے کچھ آڈر نہیں کیا۔۔۔۔۔مجھے کھاتے وقت وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اس کا دیکھنا بھی ایسا دیکھنا کے میں کچھ اور دیکھ نا سکا۔۔۔۔۔۔تقریبا ایک گھنٹا ھم نے خوب باتیں کی۔۔۔۔۔۔۔بل پے کرنے کے بعد ھم باہر نکلے تو میرا دوست جاگ چکا تھا۔۔۔دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔۔میں نے مسسزز سے انٹرو کروایا اور پھر ھم شاپنگ مال کیلئے نکل گے۔۔۔۔۔

وہ کچھ بھی نہیں لینا چاہتی تھی پھر بھی میں نے زبردستی اسے اپنی مرضی کا سوٹ اورجے٠ والوں کاپرفیوم لے کر دیا۔۔۔۔آج وقت بہت تیزی سے گزر رہا تھا۔۔۔دن کے دو بجنے والے تھے۔۔۔۔۔اور ھمارے پاس مزید دو گھنٹے بچے تھے۔۔۔۔


زندگی میں پہلی بار مجھے گزرتے وقت کا افسوس ھو رہا۔۔بچھڑنے کا وقت قریب ھو رہا تھا اور ھمارے دلوں کی ڈھرکنیں تیز ھو رہیں تھی۔۔۔۔۔۔اس کیساتھ ایک سیلفی لی جس میں وہ مجھ سے ذیادہ خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔آخری بار گلے لگایا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں صاف آنسو دکھائی دے رہے تھا۔۔۔۔بظاہر وہ خوش دکھائی دینے کی ناکام کوشش کر رہی تھی لیکن محبت کرنے ولاے درد پہچان لیتے ہیں۔۔۔۔خیر ہمیں بچھڑنا تھا۔۔۔اس کا ہاتھ چھوڑنے میں مجھے شدت کی تکلیف ھو رہی تھی لیکن مجھے چھوڑنا پڑا۔۔۔۔۔وہ جانے لگی۔۔۔۔میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔آخری بار اس کا پیچھے مڑ کر ہاتھ ہلانا آج بھی یاد ھے۔۔۔۔وہ جا چکی تھی لیکن میرے دل و دماغ میں بس چکی تھی۔۔۔۔مجھ سے مزید گاڑی ڈرائیو نہیں ھوئی تو میں نے فرینڈ کو دے دی۔۔۔
محبوب کا شہر چھوڑنا میرے لئے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔۔۔۔وہ دلاسے دیتا رہا لیکن بے سود۔۔۔آخر ھم ملے ہی کیوں اگر اتنی جلدی ہی بچھڑنا تھا۔۔۔۔۔اس کا میسج آیا نہ جائیں آج رک جائیں۔۔۔۔میں نے کوئی رپلائے نہیں دیا۔۔۔۔۔کیوں کے کل کو مزید تکلیف ھونی تھی۔۔۔۔۔ھم بہاولپور سے نکل رہے تھے۔۔۔آخری بار گاڑی رکوا کر اس شہر کو دیکھا۔۔۔۔ویسے تو مجھے سارے شہر ہی پسند ہیں لیکن بہاولپور سے مجھے بہت محبت ھے۔۔۔۔آج بھی جب کبھی چھٹی گزارنے جاتا ھوں تو میری آنکھیں اسے ڈھونڈے وہاں پہنچ جاتی ہیں ۔۔۔وہ نہیں ملتی تو مایوس ھو کہ واپس آنا پڑتا۔۔۔

میں اسلام آباد سے گھر کیلئے نکل رہا تھا۔۔۔۔۔میرا سرپرائز ابھی باقی تھا۔۔۔۔اسلامآباد سے کشمیر کیلئے چار گھنٹے لگنے تھے۔۔۔۔۔کوہالہ پکنک پوائنٹ پہ چند لمحے رکے لیکن میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔۔۔اس کیساتھ گزرا ایک ایک لمحہ مجھے یاد آرہا تھا۔۔۔۔گھر پہنچنے تک میں اس سے کال پہ باتیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔مجھے اس کی آواز میں شدت کا درد محسوس ھو ریا تھا جو میرے بچھڑنے کیوجہ سے تھا۔۔۔۔آپ کیوں آئے۔۔۔۔۔اور اتنی جلدی چلے بھی گے۔۔۔میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔۔

سات سو تینتالیس دن بعد اماں گلے لگا کر میرا ماتھا چوم رہی تھی۔۔۔۔خوشی کے آنسو ان کے گالوں سے ٹپک رہے تھے۔۔۔۔۔جن کی چمک مجھے لاڈلا بیٹا ھونے کا احساس دلا رہی تھیں۔۔۔۔۔

وقت گزرتا گیا۔۔۔۔لمحے منٹوں میں منٹ گھنٹوں میں اور گھنٹے دنوں میں تبدیل ھو رہے تھے۔۔۔۔سب نارمل تھا کہ ایک دن کہنے لگی میرے بابا نے امی کو ڈائیورس دے دیا۔۔۔مجھے شاید جھٹکا سا لگا۔۔۔۔میں سمجھ نہیں پایا وہ کیا کہہ رہی تھی۔۔۔۔میں نے فورا کال کی وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔اس دن پہلی بار اس نے گھر کی ٹینشنز بتائی ۔۔۔۔اس کے والد نے دواری شادی کی ھوئی تھی اسلئے وہ گھر میں روز لڑتا جھگڑتا تھا اور آج اس نے میری ھونے والی ساس کو طلاق دے دی تھی۔۔۔۔میں اس پریشانی سمجھ سکتا تھا ۔۔۔میں نے اسے سمبھلنے کیلئے وقت دیا۔۔۔۔میں چاہتا تھا وہ یہ صدمہ اکیلے برداشت کرے۔۔۔۔

اس شام میں اپنے دوستوں کیساتھ ھوٹل پہ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔۔۔۔۔۔اچانک اس کا میسج آیا ارمان ایم سو سوری میں مزید آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔۔مجھے لگا مذاق کر رہی ہے ۔۔۔۔کیونکہ اکثر وہ مجھے تڑپانے کیلئے ایسے مذاق کرتی رہتی تھی۔۔۔۔وہ سمجھ چکی تھی کہ میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔۔۔۔لیکن یہ کیا اس کا دوسرا میسج۔۔۔۔۔آپ بہت اچھے ہیں اور میں آپ سے بے حد محبت کرتی ہوں یہ آپ بھی جانتے ہیں لیکن فیملی ایشو کیوجہ سے میں مزید آپ کیساتھ کنٹیکٹ نہیں رکھ سکتی آپ چاہیں تو اپنی دی ہوئی واپس لے جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔میں نے رپلائے کیا لنتا سب ٹھیک ھے کیا ھوا اور یہ سب کیا کہہ رہی ھو۔۔۔اگر یہ سب مذاق ھے تو پلیز آئندہ ایسا مذاق نہ کرنا۔۔۔۔اگلے پانچ منٹ تک کوئی رپلائے نہ آیا۔۔۔میں نے نمبر ملایا۔۔۔۔آف ھو چکا تھا بار بار ملاتا رہا لیکن مطلوبہ نمبر بند سننے کو ملا. ۔۔۔میری چائے کا کپ کسی منتظر آنکھوں کیطرح وہیں دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔۔میں گھر پہنچا کسی سے بات نہیں کی اور اپنے روم میں خود کو بند کر لیا۔۔۔۔۔اماں میرے اور اس کے بارے میں بہت پہلے سے جانتی تھیں۔۔۔۔
دکھ جب حد سے بڑھنے لگا تو میں کسی بچے کیطرح گڑ گڑا کر رونے لگا۔۔۔۔سب گھر والے پریشان ۔۔۔۔اچھا بھلا تھا اسے کیا ھو گیا۔۔۔۔۔میں نے سب بتا دیا۔۔۔۔دو دن بیڈ پہ پڑا رہا مجھے بہت تیز فیور ھو گیا تھا ۔۔۔۔گھر والے زبردستی ہسپتال لے گے۔۔۔۔ایک ہفتہ ایڈمٹ رہنے کے باوجود بخار اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔میرا آنکھوں میں وہی چہرہ اور دماغ میں اس کا آخری میسج۔۔۔۔پورے گھر والے بہت پریشان رہنے لگے۔۔۔۔اماں رونے لگیں۔۔۔بیٹا کیا ھو گیا ھے تمہیں۔۔۔۔میں نہیں بتا سکتا تھا کہ مجھے کیا ھوا ھے۔۔۔۔ڈاکٹرز کی سمجھ سے باہر ھو رہا تھا۔۔۔مجھے گھر بھیج دیا۔۔۔۔۔دوست رشتہ دار سب پریشانی کیساتھ حیران ھونے تھے۔۔۔۔کسی کو بھی میری بیماری سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔۔میں کمزور پڑنے لگا آنکھوں کے آگے سیاہ ہلکے پڑنے لگے تھے۔۔۔میں وہ نہیں رہا تھا جو دو مہینے پہلے تھا۔۔۔۔۔بات حد سے بڑھنے لگی۔۔۔۔

ایک دن اچانک خیال آیا۔۔۔۔۔بابا مجھے عمرے پہ جانا ھے ۔۔۔۔بابا نے سب ارینج کر دیا۔۔۔۔مجھے اکیلا نہیں بھیجنا چاہتے تھے۔۔۔۔لیکن میں نے زبردستی کی تو انکو ماننا پڑا۔۔۔۔۔۔اس شام میری جدہ کیلئے فلائٹ تھی۔۔۔مجھے پیرس سے دوبئی ، دوبئی سے اسلامآباد اور پھر اسلامآباد سے بہالپور کا سارا سفر یاد آنے لگا۔۔۔۔میری آنکھیں تر ھونے لگی تھیں۔۔۔۔خدا کسی کی محبت کو اس سے دور نہ کرے۔۔۔۔

حرم پاک میں کھڑا۔۔۔۔اک روحانی منظر۔۔۔آنکھوں کے سامنے خانہ کعبہ لیکن دل و دماغ میں بس اسی کا خیال۔۔۔۔وہیں بیٹھ گیا۔۔۔۔اپنے رب سے باتیں کرنے لگا۔۔۔۔اگر وہ میری نہیں تھی تو میری زندگی میں کیوں آئی تھی۔۔۔۔مولا میں کیسے رہوں اس کے بنا۔۔۔۔۔مجھے وہی چاہیے ھے بس۔۔۔۔سجدہ میں گر گیا۔۔۔۔آنکھوں سے آنسو مسلسل چل رہے تھے۔۔۔۔لوگ سوچ رہے ھوں گے کہ کوئی گنہگار شخص اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہا ھے لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ مجھ جیسا بد قسمت انسان جسے نہ محبت ملی نہ اللہ کی رضا۔۔۔۔۔عمرہ کرنے کے بعد میں واپس گھر پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔واپس آ کہ مجھے صبر آ نے لگا تھا۔۔۔۔میں اس کو دل سے نکال رہا تھا۔۔۔۔۔میری چھٹی ختم ھونے والی تھی۔۔۔۔۔میں بس جلدی سے بھگ جانا چاہتا تھا لیکن اماں کا خیال آ جاتا جو میرے لئیے ہر وقت روتی رہتی تھی۔۔۔۔۔اس شام میں نے گھر والوں سے کبھی سرپرائز نہ دینے کا وعدہ کیا اور ائرپورٹ کیلئے نکل گیا۔۔۔۔۔۔اسلام آباد سے دوبئی اور پھر دو گھنٹے سٹے کیبعد پیرس کیلئے نکلنا تھا۔۔۔۔۔وقت گزرتا گیا اور میں اسے دل سے نکالنے لگا۔۔۔۔۔آج اس بات کو دو سال سے زائد عرصہ گیا۔۔۔۔وہ مجھے یاد آتی بھی ھے تو روتا نہیں ھوں۔۔۔۔۔خدا نے مجھے صبر دے دیا تھا ایک ایسا صبر کہ جس انسان کے بغیر میرا ایک منٹ نہیں گزرتا تھا آج تیسرا سال گزار رہا ھوں۔۔ایفل ٹاور کے نیچے بیٹھا اس شام بلیک کافی کیساتھ آج میں اپنی ایک حقیقی زندگی کی سٹوری کا اختتام کر رہا ھوں۔۔۔۔اللہ حافظ

تحریر : T.F

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot

ہر تنہائی سکون نہیں ہوتی