داستانِ آوارہ سبین فاطمہ کی ماں بہت کم بولتی تھی مگر جب بولتی تھی تو ایسی بات کہتی جو سالوں تک ذہن کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی۔ چھوٹی سبین جب کبھی صحن میں کھیل کھیل کر تھک جاتی اور اسکی ساری سہیلیاں چلی جاتی تو وہ ماں کی گود میں سر رکھ لیتی، اور منہ بسور کے کہتی امی ساری چلی گئی ہیں تو ماں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی: ''بیٹا، انسان صرف لوگوں سے نہیں بچھڑتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی اندر آباد کسی شہر سے بھی ہجرت کر جاتا ہے۔'' سبین اُس وقت آٹھ نو سال کی تھی۔ وہ ایسے بڑے بڑے جملوں کا مطلب نہیں سمجھتی تھی لیکن پھر بھی ان الفاظ کو اپنے سینے میں اٹھائے رکھتی تھی جیسے کوئی بچہ ایک خوبصورت پتھر اٹھا لے اور سوچے کہ بڑا ہوکر سمجھوں گا یہ کیا چیز ہے۔ ایسے ہی وقت گزرا اور وہ سوچتی رہی اپنے اندر کے شہر سے کوئی کیوں ہجرت کرتا ہوگا؟ کیا وہ شہر بھی کسی لڑائی کے بعد ویران ہو جاتا ہے؟ کیا وہاں بھی بم گرتے ہیں؟ کیا وہاں کی گلیوں میں بھی سناٹا بسیرا کرلیتا ہے ؟ مگر یہ سوال وہ کبھی ماں سے کر نہ پائی۔ شاید اس لیے کہ ماں کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ خود اس درد کو جانتی ہوں ، اور کسی دکھ...
Comments
Post a Comment