Afsana ||maan ki mohabat||takveerasmatblogspot
MAAN KI MOHABT
اماں کہتیں،''پنکھا چلا کر نہ سویا کر، موسم
بدل رہا ہے، بیمار پڑ جائے گی''، اور میں لحاف کے اندر منہ کیے جواب دیتی،'' اماں مجھے گرمی لگتی ہے، پنکھا چلائے بغیر میں نہ سو سکوں میں تو اور کچھ نہ کہتی، تیرے بھلے کیلیے کہا کہ رات کو سردی لگ گئ تو بیمار ہوجائے گی۔ یہ کہتے ہوئے اماں چل دیتیں۔ میں اٹھتی، پنکھے کی رفتار ذرا اور بڑھا دیتی، زرد بلب کا بٹن ٹک سے بند کرتی اور دوبارہ بستر پر لیٹ کر لحاف کھینچ لیتی۔ رفتار بڑھنے کے ساتھ پنکھے کی آواز بھی بدل جاتی اور گھڑ گھڑ کی آواز کمرے میں پھیل جاتی۔
مجھے یہ آواز پسند تھی،ردھم میں چلتی پنکھے کی گھڑ گھڑ کو سنتے جلد ہی نیند آجاتی تھی۔
مجھےبدلتے موسم بھی پسند تھے، بدلتے رنگ بھی، پر ہاں، بدلتے لوگوں سے میری ایک نہ بنتی۔۔۔
MAN KI MOHABT
یوں تو بدلتے موسم میں پنکھے کی ضرورت نہ تھی پر کہتی، '' اماں، گرمیوں میں تو ہمیشہ اس ظالم پنکھے کی گرم ہوا ہی نصیب ہوتی ہے، اب تو ٹھنڈک محسوس کرلوں''۔
رات نجانے کس پہر آنکھ کھلتی تو محسوس ہوتا پنکھے کی رفتار قدرے آہستہ ہوچکی ہے اور میرے جسم پر لحاف کی جگہ ایک گرم کمبل موجود ہے۔ مجھے حیرت نہ ہوتی، مجھے خبر تھی کہ اماں کہ علاوہ ایسا کرنے والا کوئ نہیں ہوسکتا۔ میں ادھ کھلی آنکھوں سے زیر لب مسکراتی اور پاوں کمبل کے اندر کرلیتی۔ ہاں ایسا کرنے سے پہلے میں اٹھ کر پنکھے کی رفتار دوبارہ بڑھانا نہ بھولتی۔
سویرے ناشتے پر اماں ناراضگی سے کہتیں،'' رات بھی تو سردی سے ٹھٹھر رہی تھی، کیسے سمٹی پڑی تھی تب میں نے تیرے اوپر کمبل ڈال کر پنکھے کی رفتار آہستہ کی۔ دیکھ پتر کبھی میری بھی سن لیا کر''۔ آخری جملہ کہتے ہوئے اماں کی آواز میں مامتا کی مٹھاس بھر آتی
''اماں تم سو جایا کرو نا، میرا لیے کاہے کو جاگتی ہو''۔میں اماں کو تنگ کرنے کیلیے کہ دیتی
''لے سو جاؤں، کیسے سو جاؤں، تو ادھر سردی سے ٹھٹھڑتی رہے اور میں یہاں سکون سےسو جاوں''۔
''اچھا اماں آج پنکھا بند کروں گی''۔ میں بات ٹالتے ہوئے کہتی
''ہاں جانتی ہوں تجھے، کہتی کچھ ہے کرتی کچھ اور ہے''۔ اماں کی ناراضگی برقرار رہتی۔ میں مسکراتے ہوئے اماں کا ہاتھ چومتی اور اٹھ جاتی۔
یوں بدلتے موسم کے دن گزرتے۔ نہ میں پنکھے کی رفتار کم کرنا بھولتی اور نہ اماں رات اٹھنا بھولتیں۔ کئ برس سب کچھ معمول کے مطابق چلتا رہا، لیکن اس بار بدلتے موسم میں اچانک معمول بدل گیا۔ اس بار میں نے کسی کے کہے بنا ہی پنکھا بند کر دیا اور پتلے لحاف کے بجائے دبیز کمبل اوڑھ لیا۔ باہر موسم تو ویسے ہی بدل رہا تھا پر مجھے لگا جیسے اس بار گرمی کے بعد یکدم سخت سردی شروع ہوگئ ہے۔ باہر موسم تو ویسے ہی بدل رہا تھا پر میرے اندر کے سارے موسم بدل چکے تھے، سارے موسم!
اس بار سب کچھ تھا پر اماں نہ رہی تھیں۔😢😭
Comments
Post a Comment