داستانِ آوارہ سبین فاطمہ کی ماں بہت کم بولتی تھی مگر جب بولتی تھی تو ایسی بات کہتی جو سالوں تک ذہن کی دیواروں سے ٹکراتی رہتی۔ چھوٹی سبین جب کبھی صحن میں کھیل کھیل کر تھک جاتی اور اسکی ساری سہیلیاں چلی جاتی تو وہ ماں کی گود میں سر رکھ لیتی، اور منہ بسور کے کہتی امی ساری چلی گئی ہیں تو ماں اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتی: ''بیٹا، انسان صرف لوگوں سے نہیں بچھڑتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی اندر آباد کسی شہر سے بھی ہجرت کر جاتا ہے۔'' سبین اُس وقت آٹھ نو سال کی تھی۔ وہ ایسے بڑے بڑے جملوں کا مطلب نہیں سمجھتی تھی لیکن پھر بھی ان الفاظ کو اپنے سینے میں اٹھائے رکھتی تھی جیسے کوئی بچہ ایک خوبصورت پتھر اٹھا لے اور سوچے کہ بڑا ہوکر سمجھوں گا یہ کیا چیز ہے۔ ایسے ہی وقت گزرا اور وہ سوچتی رہی اپنے اندر کے شہر سے کوئی کیوں ہجرت کرتا ہوگا؟ کیا وہ شہر بھی کسی لڑائی کے بعد ویران ہو جاتا ہے؟ کیا وہاں بھی بم گرتے ہیں؟ کیا وہاں کی گلیوں میں بھی سناٹا بسیرا کرلیتا ہے ؟ مگر یہ سوال وہ کبھی ماں سے کر نہ پائی۔ شاید اس لیے کہ ماں کا لہجہ ایسا تھا جیسے وہ خود اس درد کو جانتی ہوں ، اور کسی دکھ کو کرید کر کر لانا نہیں چاہتی تھیں ۔ سبین فاطمہ چھبیس کی تھی جب زندگی نے اسے پہلی بار اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کیا۔ اُس وقت اس کے اندر واقعی ایک شہر تھا ! روشن، شور والا، خوابوں سے بھرا۔ اُس شہر کے چوراہے پر یقین کا بڑا سا درخت تھا۔ ہر صبح وہ اس درخت کے نیچے بیٹھ کر سوچتی کہ کچھ بھی ناممکن نہیں، کہ زندگی ابھی بہت لمبی ہے، کہ محبت ملے گی، کہ خواب پورے ہوں گے۔ اُس شہر کی گلیوں میں محبت کے رنگ بکھرے تھے۔ کوئی تھا جس کا نام لینے سے اس کا دل دھڑک اٹھتا تھا۔ ایک آواز تھی جو اسے دنیا سے الگ کر دیتی تھی۔ ایک مسکراہٹ تھی جو اس کے سارے غم دھو دیتی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ یہ سب ہمیشہ رہے گا۔ مگر وقت کبھی بتا کر نہیں آتا۔ وہ رشتہ جسے سبین نے اپنی روح کا حصہ سمجھا تھا، ایک دن خاموشی سے ٹوٹ گیا۔ نہ کوئی بڑا جھگڑا ہوا، نہ کوئی طوفان آیا۔ بس ایک دن وہ شخص چلا گیا جیسے کوئی موسم بدل جاتا ہے۔ اور اس جانے کے ساتھ، سبین کے اندر کچھ اور بھی چلا گیا۔ وہ یقین جو درخت بن کر کھڑا تھا گر گیا۔ وہ خواب جو رنگین تھے بے رنگ ہو گئے۔ وہ شہر جو آباد تھا ویران ہونے لگا۔ پہلے پہل سبین نے سوچا کہ یہ عارضی ہے۔ وہ خود کو سمجھاتی تھی کہ وقت تو ہر درد کو بہا لے جاتا ہے ۔ مگر وقت نے درد نہیں بہایا، وقت نے اُمید کو بھی بہا لیا۔ اس کے گھر والوں نے دیکھا کہ وہ خاموش رہنے لگی ہے مگر انہوں نے سوچا کہ عمر کا تقاضا ہے۔ سہیلیوں نے محسوس کیا کہ وہ محفلوں میں اجنبی لگتی ہے مگر انہوں نے سوچا کہ مصروف ہوگی۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ سبین کے اندر ایک پوری دنیا مر رہی ہے۔ اب سبین فاطمہ چھبیس سال کی تھی۔ وہ صبح اٹھتی، چائے بناتی، کام پر جاتی، واپس آتی گھر سنبھالتی ،بہن بھائیوں کو دیکھتی ، کھانا کھاتی کچھ دیر سیر کرکے بستر پر لیٹ جاتی۔ سب کچھ ترتیب سے تھا مگر کچھ بھی اصل نہیں تھا۔ جب وہ اپنے دل کی گلیوں میں چلتی تو قدموں کی آواز بھی اجنبی لگتی۔ وہ سوچتی کیا یہ وہی گلیاں ہیں جہاں کبھی میں بھاگتی پھرتی تھی؟ کیا یہ وہی دیواریں ہیں جن پر کبھی خواب لکھے تھے؟ مگر دیواریں خالی تھیں۔ گلیاں سنسان تھیں۔ شہر میں اب سوائے ایک اکیلی عورت کے اور کوئی نہ تھا جو خود اپنے اندر آوارہ پھر رہی تھی۔اب وہ جانتی تھی کہ کچھ لوگ زندگی میں رہنے کے لیے نہیں آتے۔ وہ صرف یہ سکھانے آتے ہیں کہ خالی پن کیسا ہوتا ہے، کہ تنہائی صرف باہر کی نہیں ہوتی، کہ سب سے گہرا سناٹا وہ ہوتا ہے جو اپنے اندر بسیرا کیے ہو۔ 9 جون کی رات تھی۔ باہر ہوا چل رہی تھی اور آسمان پر بادل تھے۔ سبین اپنے کمرے میں تھی ،وہی کمرہ جہاں ایک زمانے میں رات گئے تک خواب بُنے جاتے تھے، جہاں روشنی ہوا کرتی تھی۔ اس نے میز کی دراز کھولی اور پرانی ڈائری نکالی وہ ڈائری جو اس نے سالوں پہلے شوق سے خریدی تھی، جس کے ہر صفحے پر اپنے سپنے لکھنے کا ارادہ تھا مگر زیادہ تر صفحے خالی رہ گئے تھے۔ اس نے ورق پلٹے۔ ، خالی صفحے، اور پھر ایک آخری خالی صفحہ۔ سبین دیر تک اس خالی صفحے کو دیکھتی رہی۔ پھر قلم اٹھایا اور لکھا: میں بنجر باغ کر لیا اے، ہُن پھلاں نئیں کھلنا۔ پنجابی میں لکھا تھا اس نے شاید اس لیے کہ کچھ دکھ صرف ماں بولی میں کہے جا سکتے ہیں، کچھ درد صرف اپنی زبان میں سما سکتے ہیں۔ وہ دیر تک ان لفظوں کو دیکھتی رہی۔ باہر چاند بادلوں میں گم تھا اور کمرے میں میز کا چھوٹا سا لیمپ جل رہا تھا۔ یہ کسی شخص کے جانے کا نوحہ نہیں تھا۔ یہ اُس حصے کا ماتم تھا جو اُس کے ساتھ مر گیا تھا وہ حصہ جو خوش تھا، جو یقین رکھتا تھا، جو محبت کر سکتا تھا۔ کبھی سبین بھی بہاروں پر یقین رکھتی تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ محبت بارش کی طرح ہے ایک موسم میں رک جائے تو اگلے موسم میں لوٹ آتی ہے۔ کہ انتظار کا بھی انجام ہوتا ہے، کہ دکھ کی بھی ایک حد ہوتی ہے، کہ رات کتنی ہی لمبی ہو، صبح آتی ہے۔ اسے یاد تھا جب وہ پندرہ سال کی تھی اور پہلی بار کسی کے نام سے دل دھڑکا تھا وہ گھبراہٹ، وہ خوشی، وہ بے سبب مسکراہٹ۔ اسے یاد تھا جب اُس نے پہلی بار کسی کومارچ کی کسی ٹھندی سی رات میں ایک پیغام لکھ بھیجا تھا ''میں تم سے پیار کرتی ہوں'' مگر اب وہ جان چکی تھی کہ ہر درخت کو بہار نصیب نہیں ہوتی۔ کچھ درخت عمر بھر صرف پت جھڑ کا قرض ادا کرتے ہیں ۔کیا وہ بھی ایسا ہی درخت تھی؟ لوگ کہتے تھے کہ سبین فاطمہ خاموش رہتی ہے۔ کوئی کہتا کہ وہ بہت سوچتی ہے۔ کوئی کہتا کہ اسے گھومنا پھرنا پسند نہیں۔مگر سبین جانتی تھی کہ وہ آوارہ ہے بس راستوں کی نہیں۔ وہ اُن یادوں کی آوارہ تھی جو ہر رات اس کے دروازے پر دستک دیتی تھیں۔ وہ آواز جو کانوں میں بسی تھی۔ وہ ہنسی جو ذہن سے نہیں نکلتی تھی۔ وہ لمحات جو گزر گئے تھے مگر جھلکتے رہتے تھے۔ وہ اُن خوابوں کی آوارہ تھی جو مر تو گئے تھے مگر دفن نہ ہو سکے۔ وہ دفنانا چاہتی تھی انہیں مگر کہاں جاتی؟ کون سا قبرستان ہے جہاں مرے ہوئے خواب دفنائے جا سکتے ہیں؟ اور سب سے زیادہ، وہ اپنے ہی ماضی کی آوارہ تھی۔ وہ ماضی جو اب واپس نہیں آ سکتا تھا، وہ سبین جو اب سبین نہیں رہی تھی اس کے بھی دروازے پر دستکیں دیتی رہتی تھی۔ اس کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے تھے، مگر اس کا دل ماضی کے کسی بوسیدہ صفحے پر اٹک کر رہ گیا تھا۔ وہ چھبیس سے تیس برس کی عمر کی دہلیز پر کھڑی تھی، لیکن وقت نے اس کے چہرے پر ایسی تھکن رقم کر دی تھی کہ ہر آنے والا رشتہ ایک جوان، شوخ اور زندگی سے بھرپور لڑکی کی تلاش میں نظر آتا، جبکہ اس کے چہرے کی جھریاں اس کی اصل عمر سے کہیں زیادہ برسوں کی کہانی سناتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس نے اپنی عمر سے زیادہ زندگی جھیلی ہو، اور اس کی آنکھوں میں وقت نے وقت سے پہلے ہی کئی موسم اتار دیے ہوں۔ اس رات جب ڈائری بند کی تو سبین نے آنکھیں بند کیں اور پہلی بار ایک دعا مانگی جو اس نے پہلے کبھی نہیں مانگی تھی: ''یا اللہ، جن کو لوٹ کر نہیں آنا، اُن کی یاد بھی نہ آیا کرے۔'' یہ دعا بہت چھوٹی تھی مگر اس میں کتنا بڑا دکھ تھا۔ وہ یادیں مٹانا نہیں چاہتی تھی، وہ صرف چاہتی تھی کہ وہ یادیں آئیں نہ۔ وہ محبت سے نفرت نہیں کرتی تھی، وہ صرف اس درد سے تھک گئی تھی جو محبت کے جانے کے بعد رہ گیا تھا۔ مگر دعا قبول نہ ہوئی۔ وہ رات گئے بستر پر لیٹی اور یادیں آتی رہیں ایک ایک، دھیرے دھیرے، جیسے پرانی فلم کی ریل چلتی ہو۔ وہ لمحہ جب سات سال کی محبت میں پہلی بار نظریں ملی تھیں۔ وہ دوپہر جب وہ اسکے ساتھ تھی۔ وہ رات جب گھنٹوں باتیں کی تھیں۔ وہ صبح جب سب ختم ہو گیا تھا۔ کبھی کبھی دعا قبول نہ ہونا بھی ایک جواب ہوتا ہے۔شاید اس لیے کہ ان یادوں میں ہی اس کی بقیہ زندگی تھی۔ کچھ داستانیں ختم نہیں ہوتیں۔وہ انسان کے اندر خاموشی کی صورت زندہ رہتی ہیں۔ وہ آنسوؤں میں نہیں آتیں، شور میں نہیں آتیں وہ بس ہوتی ہیں، جیسے گھر کی پرانی دیوار میں ایک پرانا داغ ہو جسے نہ ہٹایا جا سکتا ہے نہ بھولا جا سکتا ہے۔ سبین فاطمہ کی کہانی بھی ایسی ہی تھی۔ وہ اپنی زندگی جیتی رہی کام کرتی، کھاتی، سوتی، جاگتی مگر اس کے اندر کا شہر ہمیشہ کے لیے بدل گیا تھا۔ وہاں اب بھی زندگی تھی، مگر وہ کسی کے ساتھ دیکھے ہوے خواب والی نہیں تھی۔ وہاں اب بھی گلیاں تھیں، مگر اُن میں اب ہنسی کی آوازیں نہیں آتی تھیں۔ وہاں اب بھی وہ درخت تھا مگر اس پر پتے نہیں تھے۔ اس نے آخری بار اس چلے جانے والے کے بارے میں سوچا تھا کہ زندگی کی آخری سانس جب لبوں تک آئے گی، اور وقت کی شام دھیرے دھیرے میرے وجود پر اتر رہی ہوگی، تب بھی دل کے کسی نرم گوشے میں تمہارا نام روشن ہوگا۔ میں آنکھیں بند کرتے ہوئے شاید دنیا سے رخصت ہو جاؤں، مگر ایک سچ میرے ساتھ جائے گا کہ رب کے بعد اگر کسی سے سچی، بے غرض اور مکمل محبت کی، تو وہ صرف آپ ہیں۔ آپکی یادیں میری سانسوں میں گھلی رہیں، آپکی باتیں میرے دل کی دھڑکن بنیں، اور اس آخری لمحے میں بھی میری خاموشی یہی کہے گی، کہ میرا اختتام بھی آپ کی محبت میں آپکے نام پر ہی آکر ٹھہرے ۔ وقت شام کا تھا اور پھرایک دن وہی ہوا جو ہر داستان کا ہوتا ہے سبین خود ایک داستان بن گئی۔ ازقلم تکویر فاطمہ

Comments

  1. خوبصورت تحریر اللہ کسی کو کسی کے درد میں مبتلا نا کریں اور سب کے نصیب اچھے کریں خوش و سلامت رہیں

    ReplyDelete
  2. اس مختصر تحریر میں چند جملے شائد میں کبھی نہ بھول سکوں جیسے.... ایسا لگتا تھا جیسے اس نے اپنی سے کافی زیادہ زندگی جھیلی ہو.... لاجواب. بہترین.. بہت اعلی
    شیراز سکندر

    ReplyDelete


  3. "داستانِ آوارہ" پڑھنے کے بعد کچھ دیر کے لیے خاموشی کا سکوت طاری ہو جاتا ہے۔ آپ کے لکھے ہوئے جملے قاری کے لاشعور میں دستک دیتے ہیں۔ محبت کا چلے جانا اور اپنے ساتھ انسان کے اس حصے کو بھی لے جانا جو جینا جانتا تھا— اس نفسیاتی المیے کو آپ نے جس گہرائی سے چھوا ہے، وہ آپ کی فنی پختگی کی دلیل ہے۔

    آخری منظر میں سبین کا اپنی آخری سانس تک محبت کا اعتراف کرنا، کہانی کو روایتی شکوے شکایت سے اٹھا کر لافانی پاکیزگی کے مرتبے پر فائز کر دیتا ہے۔ 'The Fit Storyteller' واقعی احساسات کا وہ جہان ہے جہاں لفظ صرف بولتے نہیں، روتے اور مسکراتے ہیں۔ اس بے مثال تحریر پر دل کی گہرائیوں سے دادِ تحسین قبول فرمائیے!

    ReplyDelete
  4. بہت اعلیٰ

    ReplyDelete
  5. .. آپ نے تو دل کی پوری بستی لکھ دی۔

    "انسان صرف لوگوں سے نہیں بچھڑتا۔ کبھی کبھی وہ اپنے ہی اندر آباد کسی شہر سے بھی ہجرت کر جاتا ہے" - ماں کا یہ جملہ تو پوری داستان کی بنیاد بن گیا۔ آٹھ سال کی سبین کے سینے میں جو پتھر رکھ دیا گیا تھا، وہ چھبیس سال کی عمر میں پتھر نہیں، پورا ویران شہر بن گیا۔

    یہ "آوارہ سبین" والی سطر نے تو کمر توڑ دی: *"وہ آوارہ ہے بس راستوں کی نہیں۔ وہ اُن یادوں کی آوارہ تھی"*۔ کتنے لوگ ہیں جو راستے نہیں، ماضی میں آوارہ پھرتے ہیں۔ جن کا گھر، نوکری، چائے، سب ترتیب سے ہوتا ہے... مگر دل کی گلیوں میں قدموں کی آواز اجنبی لگتی ہے۔

    "میں بنجر باغ کر لیا اے، ہُن پھلاں نئیں کھلنا" - پنجابی میں لکھا یہ ایک جملہ ہزار صفحوں کے درد پر بھاری ہے۔ کچھ دکھ واقعی صرف ماں بولی میں سما سکتے ہیں۔

    اور وہ دعا... "یا اللہ، جن کو لوٹ کر نہیں آنا، اُن کی یاد بھی نہ آیا کرے"۔ کتنی چھوٹی دعا، کتنا بڑا زخم۔ دعا قبول نہ ہونا بھی جواب تھا - کیونکہ ان یادوں میں ہی تو اس کی بقیہ زندگی تھی۔

    سبین مر نہیں گئی، وہ "داستان بن گئی"۔ اور داستانیں مرتی نہیں، وہ خاموشی بن کر ہمارے اندر رہتی ہیں۔ جیسے پرانی دیوار کا داغ۔

    آپ کا قلم کمال کرتا ہے۔ ہر پیراگراف میں ایک نیا زخم، ایک نئی حقیقت۔ "وقت نے درد نہیں بہایا، وقت نے اُمید کو بھی بہا لیا" - یہ سطر برسوں تک ذہن کی دیواروں سے ٹکراتی رہے گی۔

    ReplyDelete
  6. خدا محفوظ رکھے اس بلا سے

    ReplyDelete
  7. بہت اعلی۔ اچھی تحریر ہے۔

    ReplyDelete
  8. Bohat khub

    ReplyDelete
  9. مگر ایک سچ میرے ساتھ جائے گا کہ رب کے بعد اگر کسی سے سچی، بے غرض اور مکمل محبت کی، تو وہ صرف آپ ہیں۔ آپکی یادیں میری سانسوں میں گھلی رہیں، آپکی باتیں میرے دل کی دھڑکن بنیں، اور اس آخری لمحے میں بھی میری خاموشی یہی کہے گی، کہ میرا اختتام بھی آپ کی محبت میں آپکے نام پر ہی آکر ٹھہرے.

    ایسی محبت جب انسان کو مل جاتی ہے تو وہ دنیا کا سب سے بڑا خوش نصیب ہوتا ہے ہے ۔
    میری دعا ہے اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے

    ReplyDelete
  10. ہم خیالی !!!!

    ReplyDelete
  11. بہت اعلیٰ میڈم

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Kashkol-e-gadai|takveeer2917blogspot

ہر تنہائی سکون نہیں ہوتی